| جب سے دل درد كي سپاه ميں هے
جب شاد مكيں هوں گے، آباد نگر هو گا
جب كُھلے بندِ قبا اور هي نقشا چمكا
جب گر گئے تو خود هي سنبھلنا پڑا هميں
جتنا جوڑا، بِكھر گيا كُچھ اور
جتنا دُھتكارے او ر لپٹتے جائيں
جتنا كاٹا يه بڑھ گيا كُچھ اور
جتني مشكل هے، سب نباه ميں هے
جتنے تھے اهتمام زياده كيے هوئے
جتنے تھے خط تمام كا تھا ايك زاويه
جتنے تھے لوگ اُتنے هي عالم چلے گئے
جتنے سفر تھے اپنے كِسي دائرے ميں تھے
جذبات بُجھ گئے هوں تو كيسے جلے يه دِل
جذبات كي اِس بھيڑ ميں ديكھوں ميں كدھر سے
جسم تھا اور عذاب تھے، آنكھيں تھيں اور خواب تھے
|